تت[1]
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - جوہر، روح، ست۔ جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ہے یہی اک بات ہر مذہب کا تت ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ٣٣٣ ) ٢ - اصلی، کھرا، سچا۔ سکھوں سے دشمنی کوئی اسلام کو نہیں اسلامیوں کے بھائی ہیں جو خالصہ ہیں تت ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٧٤٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'تت' ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٠٠ء میں "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر